fbpx
تاریخMay 29, 2020

Why America Lost 2003 IRAQ War?

Imran Zahoor
Latest posts by Imran Zahoor (see all)

 

usa vs iraq

عراق جنگ 2003 میں امریکہ ناکام
کیوں ہوا؟

جنگ وجارحیت کبھی بھی کسی مسئلے کا پائیدار اور دیرپا حل نہیں ہوتی۔ کسی بھی مسئلے کو سلجھانے کے لیے طاقت کا استعمال آخری آپشن ہونا چاہیے۔ امریکہ نے 2003 میں عراق پر یکطرفہ چڑھائی کی اور صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ کر عراق پر اپنا کنٹرول سنبھالا۔ امریکہ کی عراق جارحیت بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی جس کی اقوام متحدہ کے ساتھ فرانس’ جرمنی’ روس اور چین نے بھی مخالفت اور مذمت کی۔ امریکی جارحیت کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی عوام ہلاک ہوئے۔ اس کے ساتھ امریکہ اور اس کی اتحادی فوج کو بھی عراق میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا- ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ کے عراق جنگ میں 1.9 کھرب ڈالر خرچ ھوے- امریکہ عراق جنگ کے مقاصد کو بھی حاصل نہ کر پایا اور اس جنگ کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ بھی عدم استحکام سے دوچار ہوا۔

امریکہ پر نائن الیون کے حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے فوجی آپریشن کے ذریعے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ختم کیا اور امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ 2002 میں امریکہ کی داخلی سیاست میں قدامت پسند Neo-Conservative اور آزاد خیال Neo-liberalism سیاسی گروہ متحرک ہوئے۔ ان دونوں مکتبہ فکر کے گروہوں نے بش انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سلامتی کے تحفظ کے لیے عراق پر حملہ کرے۔ یہاں میں دائیں بازو کے اس قدامت پسند گروہ کے بارے میں بتانا چاہوں گا یہ گروہ 1980 کی دہائی میں ریگن انتظامیہ کے دور میں امریکی سیاست میں نمودار ہوا اس مکتبہ فکر کے نظریہ کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں: امریکہ کا دنیا میں فوجی تسلط بڑھانا’ دنیا میں قیام امن کے لیےامریکی فوجی مداخلت کی حمایت کرنا’ امریکا مخالف حکومتوں کو طاقت کے ذریعہ سے کچلنا’ بین الاقوامی قانون اور اس سے منسلک اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار’ اور دنیا کو جمہوریت کے ذریعے پرامن بنانا۔ اسی قدامت پسند مکتبہ فکر کے نظریہ کی پیروی کرتے ہوئے بش انتظامیہ نے عراق پر 2003 میں حملہ کرنے کی پلاننگ کی۔ اس کے علاوہ عراق پر حملے کی ایک اور بنیادی وجہ %1 ڈاکٹرائن تھی جو امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے امریکی خارجہ پالیسی میں متعارف کروائی اس ڈاکٹرائن کے مطابق اگر امریکی سلامتی کو دنیا میں کسی ملک یا تنظیم سے %1 بھی خطرہ ہو تو امریکہ اس کےخلاف پیشگی حملہ یعنی Pre-emptive Strike کے تحت فوجی کارروائی کرے گا۔ لہذا %1 ڈاکٹرائن نے بھی عراق پر امریکی حملے کی عملی راہ Operational Ground کو ہموار کیا اور آخرکار 2003 میں امریکہ عراق پر چڑھ دوڑا۔ امریکہ کے عراق پر حملہ کرنے کی کچھ بنیادی وجوہات بھی تھیں جو کہ درج ذیل ہیں: صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ’ عراق میں جمہوری عمل کا آغاز کرنا’ عراقی تیل تک امریکی رسائی’ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ممکنہ ہتھیاروںWMD کا خاتمہ’ عراق میں القاعدہ کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنا۔انہی وجوہات کی بنا پر امریکہ نے عراق جنگ کا آغاز کیا اور پھر ایک ایسی دلدل میں پھنس گیا جس نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد ان پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے جس کی وجہ سے امریکہ عراق جنگ میں ناکام ہوا اور اس جنگ کے مقاصد کو حاصل نہ کر سکا۔

امریکا کی عراق جنگ میں ناکامی کی پہلی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے اس جنگ کو صرف فوجی زاویوں سے ہی پلان کیا تھا۔ عراق جنگ سے قبل بش انتظامیہ نے عراقی سوسائٹی میں پائے جانے والی فرقہ وارانہ تفریق اور عراقی عوام کا امریکی حملے کی صو رت ردعمل کا بالکل بھی تجزیہ نہیں کیا۔ یہ وہ دو اہم بنیادی پہلو تھے جس کو امریکی دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین نے یکسر نظر انداز کیا۔ صدام حسین نے اپنے 24 سالہ دور اقتدار میں بزور طاقت عراقی عوام کو دبائے رکھا اور کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ فساد کو ابھرنے نہیں دیا۔ لیکن جیسے ہی امریکہ نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کرکے عراق کا کنٹرول سنبھالا تو وہاں پر شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے جو کہ امریکی افواج کے لیے غیر متوقع تھے۔ ان فسادات کی نتیجے میں عراق کی داخلی امن و امان کی صورتحال بتدریج خراب ہونا شروع ہوگئی اور امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے لیے عراق کا کنٹرول سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

عراق جنگ میں امریکہ کی دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ بش انتظامیہ نے قبل از وقت جنگ کے عراق میں کوئی خفیہ عوامی رائے شماری کیے بغیر یہ مفرو ضہ قائم کر لیا تھا کہ امریکی حملے کی صورت میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو عراقی عوام اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہیں گے اور امریکہ کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح مزاحمت سے گریز کریں گے اور یہ رائے امریکہ نے اس بنیاد پر قائم کی تھی کہ صدام حسین کے 24 سالہ طویل’ آمرانہ اور ظالمانہ اقتدار کے ستائے ہوئے عراقی عوام خاص کر شیعہ اکثریتی آبادی (%65 عراق کی آبادی ) امریکی حملے کی حمایت کرے گی۔ لیکن بش انتظامیہ کا یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا کیونکہ جیسے ہی امریکہ اور اس کی اتحادی افواج عراق میں داخل ہوئیں تو عراقی عوام نے امریکہ کو ایک جارح قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مسلح اور خونریز مزاحمت کا آغاز کردیا اور نتیجتاً پورا عراق خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا اور اتحادی افواج پر حملوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بعد ازاں القاعدہ’ کرد باغی’ داعش اور دیگر متحارب گروہوں کو عراق کی خانہ جنگی میں پروان چڑھنے کا موقع ملا اور عرب سپرنگ2011 کے بعد اس خانہ جنگی کا دائرہ کار شام تک پھیل گیا اور یوں مشرق وسطی کا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہوا۔

عراق جنگ میں امریکہ کی تیسری بڑی غلطی وہاں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عراق میں باقی ماندہ سیاسی گروہوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف شیعہ اکثریت کو اقتدار میں شراکت دار بنانا تھا۔ امریکی انتظامیہ کا یہ عمل امریکہ کے لیے عراق جنگ کا ایک بہت بڑا Policy Failure تھا اگر امریکہ عراق پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں ایک وسیع البنیاد حکومت کی بنیاد رکھتا جس میں عراق کے تمام نسلی و لسانی اور دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو اقتدار میں حصہ دار بناتا تو ممکن تھا عراق میں اتنی تباہی اور خونریزی نہ ہوتی اور وہاں سیاسی عمل کے ذریعے سے امن قائم ہوتا۔اسی طرح کی غلطی امریکہ نے 2001 کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اور افغانستان میں ایسی حکومت ( شمالی اتحاد ) کی بنیاد رکھ کر کی جو افغانستان کی اکثریت کی نمائندہ نہیں تھی۔اگر امریکہ ابتدائی مرحلے میں کسی بھی ممکنہ طریقے سے طالبان کو اقتدار اور سیاسی عمل میں شامل کرتا تو شاید افغانستان کے حالات آج یکسر مختلف ہوتے اور پھر اتنی تباہی کے بعد آخر کار 2020 میں بھی تو امریکہ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا جس کا مطلب افغانستان میں طالبان کو ایک حقیقت ماننا ہے۔ امریکہ جیسے ہی عراق میں نورالمالکی کی نام نہاد حکومت کا قیام عمل میں لایا تو اس نے عراق کے حالات بہتر کرنے کے بجائے سنی گروہوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور انہیں ہر طرح کے معاشی’ سیاسی اور سماجی حقوق سے محروم کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نورالمالکی کے مظالم کے ڈھائے ہوئے سنی گروہوں کی نوجوان اکثریت بڑی تعداد میں القاعدہ اور داعش میں شمولیت اختیار کی جنہیں القاعدہ اور داعش نے اپنی پر تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بطور آلہ کار استعمال کیا جس نے نہ صرف خطے کے ممالک کو دہشت گردی کی طرف دھکیلا بلکہ اس دہشت گردی کے اثرات پوری دنیا پر بھی مرتب ہوئے۔

امریکہ کی عراق میں ناکامی کی چوتھی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے جنگ سے تباہ حال عراق میں تعمیر نو وبحالی کے عمل میں تاخیر اور سست روی کی پالیسی کو اختیار کیا۔اگر امریکہ ابتداء میں ہی عراق میں تعمیر نو اور بحالی کے عمل کو رفتار کو تیز کرتا اور عراق میں بے گھر افراد کی بحالی’ مواصلات و آمدرفت کے نظام کو بہتر بناتا’ معا شی سرگرمیوں کو تیز کرتا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور گورنر کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا تو ممکن تھا کہ وہ عراقی عوام کی جانب سے امریکہ مخالف مزاحمت کو کم کر سکتا تھا۔ لیکن امریکہ نے عراقی عوام کے ہر طرح کے مسائل کو سیاسی تدبر سے حل کرنے کے بجائے انہیں صرف طاقت کے ذریعے سے ہی حل کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے عراقی عوام کا غم وغصہ اور نفرت امریکہ کے خلاف ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑ ھتی چلی گئی اور نتیجہ کے طور پر بے روزگاری اور معاشی تنگدستی کے ستائے ہوئے عراقیوں نے امریکہ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور عراق کی سرزمین Sell the War کا مرکز بن گی۔ یہاں ایک اہم پہلو پر بات کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی جنگ سے تباہ حال شدہ ملک میں قومی تعمیر نو اور بحالی کا عمل انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور خاص کر ایسی صورت میں جب وہ ملک بیرونی جارحیت کا مرتکب ہو اور جارح اس ملک کے داخلی حالات’ سماجی روایات اور عوامی نفسیات و رحجانات سے ناواقف ہو۔ انہی وجوہات کی بناء پر عراق جنگ میں امریکہ کو ہر مرحلے پر عراق کے حالات ٹھیک کرنے اور عراقی سوسائٹی کو جنگ کے بعد نارمل زندگی کی طرف لانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

عراق جنگ میں ناکامی سے دوچار ہونے کی امریکہ کی آخری اور اہم وجہ امریکی اور اتحادی افواج کا عراق میں متوقع گوریلا جنگ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی طور پر تیار نہ ہونا تھا کیونکہ بش انتظامیہ کا خیال تھا کہ صدام حسین کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد عراق کے اندرونی حالات نارمل رہیں گے اور امریکی اور اتحادی فوج کے فوجی دستوں کو کسی بڑی مسلح مزاحمت کا سامنا کئے بغیر عراق کا صرف داخلی کنٹرول سنبھالنا ہوگا۔ لیکن بعد ازاں یہ سب کچھ امریکی سوچ کے برعکس ہوا اور امریکہ کو عراق میں ایسی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جو جنگی اقسام میں انتہائی خوفناک اور طویل جنگ سمجھی جاتی ہے یعنی گوریلا جنگ۔ اگر ہم دنیا کی جنگی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ گوریلا جنگ میں زیادہ تر گوریلا جنگجو ہی کامیاب ہوئے اور پیشہ ور افواج کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گوریلا جنگ کی ہولناکیوں سے امریکی افواج سے بڑھ کر اور کون واقف ہوگا جب امریکہ نے ویتنام (75 -1965)کی دس سالہ گوریلا جنگ میں اپنے فوجیوں کے 52 ہزار تابوت اٹھائے۔یوں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کوعراق میں بھی ویتنام جیسی خون ریز گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑا جو کہ عراق میں امریکی ناکامی کی ایک اہم وجہ بنی۔

آج امریکہ کی عراق جارحیت کو 17 برس گزر چکے ہیں لیکن آج کا عراق ابھی تک تباہ حال اور گھمبیر مسائل میں گھر ا ہوا ہے ایسے مسائل جن کا ابھی دور دور تک کوئی حل نظر نہیں آتا۔ ان میں سے اہم مسائل: بدترین گورننس’ انتہا کی کرپشن’ سیاسی تناؤ واقتدار کی بندر بانٹ’ فرقہ واریت’ بےروزگاری’ معاشی بحران’ بےگھر افراد کی بحالی’ غیر محفوظ اقلیتیں’ دہشتگردی’ خارجی مداخلتیں’ تقسیم دروفاداریاں’ آئینی بحران’ میونسپل سروسز کا فقدان’ غذائی قلت اور امن و امان کی بدترین صورتحال’ ہیں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کا عراق سے تقریبا انخلا ہو چکا ہے لیکن آج بھی عراق سلگ رہا ہےاور عراقی عوام امریکی جارحیت اور اس کے نتیجے میں ان پر ڈھائےجانے والے مظالم اور ان مظالم کی داد رسی نہ ہونے کا ماتم کر رہے ہیں۔

Imran Zahoor
[email protected]

Leave a Reply