Connect with us

کرونا وائرس

ہیئر اینڈ بیوٹی صنعت کا کاروبار دوبارہ کھولنے کے لیے حکومت سے اپیل

کرونا  وائرس کے پھیلنے کی وجہ  سے سب سے بری طرح متاثرہ کاروبار وہ رہے ہیں جو سروسز پر مبنی ہیں۔ اگرچہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ کرونا وائرس کی وباء کی روشنی میں ہیئر ڈریسنگ اور  بیوٹی انڈسٹری ایک بڑے رسک کے کاروبار ہیں لیکن حکومت اس صنعت کی طرف آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔

ہیئر  اینڈ  بیوٹی کی صنعت سے قوم کو ایک بہت بڑی رقم حاصل ہوتی ہے اور حکومتی مدد کی کمی کا مطلب یہ ہوگا کہ کاروبار صرف بچت اور کاروباری افراد کی ذاتی سرمایہ کاری پر ہی زندہ رہ سکتا ہے،  جو  کہ  ایک  لمبے  عرصے  تک  چلانا  ناممکن  ہے۔

ساری  صنعت  کو 19 مارچ سے آج تک بند  کیا  ہوا  ہے  جس  کا  مطلب ہے  کہ  یہ  پوری  صنعت  تقریبا  4  ماہ  سے  بندش  کا  شکار  ہے۔ پاکستان ہیئر اینڈ بیوٹی ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ  مذاکرات  کرنا  چاہتی  ہے  اور  ایک  ٹائم  لائن  معین  کرنا  چاہتی  ہے  تاکہ  سیلونز  کو  دوبارہ  سے  کھولا  جائے۔ اگر  اِس  میں  ناکامی  ہوتی  ہے  تو  ان  کے  پاس سیلونز کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا یا  دوسرا آپشن سینکڑوں سیلونز کی بندش کا ہے۔

View this post on Instagram

PHABA is pleased to inform its members about the recently held community service activity fully sponsored by NGO ANONYMOUS. A message from ANONYMOUS Founder is shared below: “10 days ago, we put together a platform that could help the salon workers. The thought was triggered by a simple call, the girl just told me how corona has effected them. I realised Eid and Ramadan is a time when these girls would get extra money and tip. Many of them belong to minorities and unfortunately don’t qualify for zakat. Most of them are bread earners for their houses. _When putting together anonymous, I wasn’t sure if we would be able to raise enough funds. I was wrong, a strong sense of community emerged and everyone came forth to support the cause. On my tenth day, we stand with a total of Rs. 1 million, supporting 100 girls, 100 households. Founder ANONYMOUS” @anonymousupportsystem @phaba #professionalhairandbeautyassociation

A post shared by PHABA (@phaba.pk) on

پاکستان  ہیئر  اینڈ  بیوٹی  سیلون  کی  صدر  نبیلہ  کا  کہنا  ہے  کہ  “ہمارے سیلونز 3 ماہ سے بند ہیں۔ ہمیں عملے کی تنخواہوں ، افادیت اور کرایہ کسی آمدنی یا امداد کے بغیر ادا کرنا پڑا ہے۔ حکومت  سے  مالی  امداد  کے  لیے  مجبور  بن  کر  دکھانا  بہت  آسان  ہے  لیکن  ہم  ایسا  نہیں  چاہتے  ہیں۔  ہماری  حکومت  سے  صرف  اتنی  اپیل  ہے  کہ  محدود وقت کے لئے اپنے سیلونز کھولنے کی اجازت دی  جائے ، ہفتے میں کچھ دن سخت ایس او پیز کے ساتھ تھوڑے فیصد صارفین کی فراہمی ہوسکے تاکہ ہم اپنے آپ کو برقرار رکھ سکیں”۔

View this post on Instagram

𝐑𝐀𝐈𝐒𝐈𝐍𝐆 𝐓𝐇𝐄 𝐁𝐀𝐑 | The Way Forward — #NABILA #NPRO #NVISION #NSIGHT #ZERO #ZEROMAKEUP #IAMZERO #NABILACares #HealthAndSafety #SafetyMeasures #RaisingTheBar #TheNewNorm #TheWayForward #SafetyFirst #PersonalProtectiveEquipment #SafeDistancing #MedicalGradeCleaning #EquipmentSterilization #NoDoubleDipping #StaySafe #COVID19 #Coronavirus #CoronaVirusOutbreak #BeatTheVirus #FlattenTheCurve #PreventTheSpread #SocialDistancing #DontPanic #MyPandemicSurvivalPlan #Pandemic

A post shared by NABILA (@nabila_salon) on

اس سلسلے میں ایک اور تشویش یہ ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کی بہت سی خواتین اس مہارت کو اپنے کنبے کی روزی  روٹی  کمانے  کے  لیے  استعمال  میں  لاتی  ہیں۔ ملک بھر میں سیلونز کی طویل بندش کا نتیجہ نہ صرف بڑے پیمانے پر بے روزگاری میں اضافے کا سبب بنے گا بلکہ اس کی  وجہ سے متعدد گھرانوں میں پہلے سے ہی موجود معاشی بوجھ میں  مزید اضافہ ہوگا۔

 پی ایچ اے بی اے کی صدرسعیدہ مانڈوی والا نے مزید کہا  ہے  کہ  “خواتین کی زیر قیادت سیلون  جیسے  کاروبار ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے ، ملازمتوں اور معاشی محصول کو فروغ دینے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں” ۔

اس صنعت پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے اور اس وجہ سے بھی کہ اس طرح کے کاروباروں کے ذریعہ ادا کیے جانے والے ٹیکس میں ایک بڑی رقم کا اضافہ ہوجاتا ہے جس کو حکومتی ریونیو بورڈ  میں  جمع  کیا  جاتا  ہے۔

اس طرح کے بہت سارے کاروباروں نے پہلے ہی اُن شعبوں کے مقابلے میں سخت ایس او پیز تیار کی ہیں جنہیں اِس وقت کام کرنے کی اجازت ہے۔ ان کے پاس بین الاقوامی اور قومی قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری ہے۔

پی ایچ اے بی اے کی سینئر ممبر مسرت مصباح کے مطابق ، “بیوٹی کی صنعت محروم طبقے کی خواتین ، اقلیتوں کے گروہوں  جیسے عیسائی ، ہندو ، تیسری  جنس  کے افراد  اور تیزاب سے متاثرہ خواتین میں اِس ہنر کو  منتقل  کرنے  کی تربیت فراہم کرتی ہے”۔  انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا  کہ “پاکستان کی آبادی کا تقریبا 50٪ حصہ خواتین کا ہے۔ ان باصلاحیت خواتین کو اپنی روزی کمانے کی اجازت دی جانی چاہئے اور انہیں حکومت کی  جانب  سے  نیچے  نہیں  دھکیلنا  چاہیے”۔

View this post on Instagram

𝐑𝐀𝐈𝐒𝐈𝐍𝐆 𝐓𝐇𝐄 𝐁𝐀𝐑 | The New Norm 𝘖𝘶𝘳 𝘧𝘰𝘶𝘯𝘥𝘦𝘳𝘴 𝘷𝘪𝘴𝘪𝘰𝘯 𝘧𝘰𝘳 𝘵𝘩𝘦 𝘧𝘶𝘵𝘶𝘳𝘦 𝘰𝘧 𝘕𝘈𝘉𝘐𝘓𝘈 𝘚𝘢𝘭𝘰𝘯𝘴. 𝘈 𝘴𝘢𝘧𝘦 𝘴𝘱𝘢𝘤𝘦 𝘸𝘪𝘵𝘩 𝘢 𝘴𝘶𝘱𝘦𝘳𝘪𝘰𝘳 𝘭𝘦𝘷𝘦𝘭 𝘰𝘧 𝘩𝘺𝘨𝘪𝘦𝘯𝘦 𝘤𝘰𝘮𝘣𝘪𝘯𝘦𝘥 𝘸𝘪𝘵𝘩 𝘣𝘦𝘴𝘵 𝘱𝘳𝘢𝘤𝘵𝘪𝘤𝘦𝘴 & 𝘮𝘦𝘥𝘪𝘤𝘢𝘭 𝘭𝘦𝘷𝘦𝘭 𝘴𝘢𝘯𝘪𝘵𝘪𝘻𝘢𝘵𝘪𝘰𝘯 𝘵𝘰 𝘦𝘯𝘴𝘶𝘳𝘦 𝘵𝘩𝘦 𝘩𝘦𝘢𝘭𝘵𝘩 𝘢𝘯𝘥 𝘸𝘦𝘭𝘭𝘣𝘦𝘪𝘯𝘨 𝘰𝘧 𝘦𝘷𝘦𝘳𝘺𝘰𝘯𝘦 𝘸𝘩𝘰 𝘸𝘢𝘭𝘬𝘴 𝘵𝘩𝘳𝘰𝘶𝘨𝘩 𝘰𝘶𝘳 𝘥𝘰𝘰𝘳𝘴. – #NABILA #NPRO #NVISION #NSIGHT #ZERO #ZEROMAKEUP #IAMZERO #NGents #NGentsLahore #NABILACares #HealthAndSafety #SafetyMeasures #RaisingTheBar #TheNewNorm #TheWayForward #SafetyFirst #PersonalProtectiveEquipment #SafeDistancing #MedicalGradeCleaning #EquipmentSterilization #NoDoubleDipping #StaySafe #COVID19 #Coronavirus #BeatTheVirus #FlattenTheCurve #SocialDistancing #MyPandemicSurvivalPlan #Pandemic

A post shared by NABILA (@nabila_salon) on

ان تمام عوامل کی  وجہ  سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ہیئر اینڈ بیوٹی کی صنعت پر زیادہ دباؤ پڑرہا ہے ، حکومت کو اس صنعت پر زیادہ توجہ دینے اور ریلیف دینے کی ضرورت ہے تاکہ کاروبار بڑھ  سکیں اور کاروباری اداروں کی بندش کی  وجہ  سے  عملے  کو  بیروزگار  نہ  ہونا  پڑے۔

پی ایچ اے بی اے پاکستان ہیئر اینڈ بیوٹی ایسوسی ایشن ہے جو سن 2009 میں تشکیل دی گئی تھی اور اس میں 160 فعال بزنس ہیں جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سندھ ریونیو بورڈ کے ساتھ ساتھ اس فیلڈ میں تعلیم یافتہ ہیئرڈریسر اور بیوٹیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاکستان

ایماراتی ایئرلائن نے پاکستان کے ساتھ اپنا ہوائی آپریشن معطل کردیا

متحدہ عرب امارات کی  قومی  ایئرلائن نے کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے لئے اپنا فلائٹ آپریشن معطل کردیا ہے۔ امارات ایئر لائن 3 جولائی کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔ یہ فیصلہ دبئی تا ہانگ کانگ کی پرواز میں سفر کرنے والے 26 پاکستانیوں میں وائرس کے مثبت ٹیسٹ آنے  کے  بعد کیا گیا تھا۔

ہانگ کانگ نے پیر کو کہا کہ کرونا وائرس کے 30 نئے کیسز درج کیے  گیے  ہیں اور ان میں سے 29 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔  سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کی شام تک پاکستان میں کررونا وائرس کے واقعات کی تعداد بڑھ کر مجموعی طور پر 186،598 ہوگئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق کوویڈ 19 سے متعلق اموات کی تعداد 3،716 ہوگئی ہے۔ جبکہ کم از کم 73،471 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔

پنجاب میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جہاں مجموعی طور پر  1،495 افراد  لقمہ  اجل  بن  گئے  ہیں۔ جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بالترتیب 1،124 اور 843 اموات ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں 104 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اسلام آباد میں 106 اموات؛ گلگت بلتستان  22؛ اور آزادکشمیر  22  اموات  ریکارڈ  ہوئی  ہیں۔

Continue Reading

پاکستان

کرونا سے جنگ میں چین نے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا

چین نے کرونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے تمام فورمز پر اپنی مسلسل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔  انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق میجر جنرل ڈاکٹر چاؤ فیہو کی سربراہی میں دس ممبر افراد  پر  مشتمل لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی میڈیکل ٹیم نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

بات چیت کے دوران کرونا کو  کنٹرول سے متعلق امور اور اس وائرس کے خلاف پاکستان کی  صلاحیتوں  اور  جامع ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  چیف  آف  آرمی  سٹاف نے طبی سامان کی فراہمی اور دیگر امداد سے متعلق چین کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ اُن  کا  کہنا  تھا  کہ چینی طبی ماہرین کے دورے سے پاکستان کو وبائی امراض کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق “آرمی  چیف نے کہا کہ اگرچہ دنیا کوویڈ 19 کے خلاف علاج تلاش کرنے کی کوششیں کر رہی ہے لیکن اس بیماری کو روکنے کے لئے قومی کوششوں اور اس کے معاشی اثرات کو فروغ دینے کے لئے کثیر القومی حمایت اور عالمی تعاون بہت ضروری ہے”۔

Continue Reading

خبریں

قومی ٹیم کے تین کھلاڑیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق  کی  ہے  کہ  پاکستان  کرکٹ کے تین کھلاڑیوں حیدر علی، حارث رؤف اور شاداب خان میں  کرونا  وائرس  مثبت  آیا  ہے  اور  اُنہیں  کورنٹین  کردیا  گیا  ہے۔

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ سے قبل اتوار کو راولپنڈی میں ہونے  والے  کرونا ٹیسٹ تک کھلاڑیوں نے کوئی علامت نظر  نہیں  آئیں  تھیں۔  پی سی بی کا میڈیکل پینل ان تینوں کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور  اُن کو فوری طور پر کورنٹین میں جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

عماد وسیم اور عثمان شنواری کے  بھی راولپنڈی میں کرونا وائرس  کی  جانچ  کے  لیے  ٹیسٹ  لیے  گئے  لیکن نتیجہ  منفی  آیا،  اِسی  لیے  اب  وہ  دونوں  24 جون کو لاہور جائیں گے۔

کلف ڈیکن، شعیب ملک اور وقار یونس کو چھوڑ کر دوسرے کھلاڑیوں اور ٹیم کے عہدیداروں کا پیر کو کراچی، لاہور اور پشاور میں اپنے اپنے مراکز میں ٹیسٹ لیا گیا۔  توقع ہے کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج منگل تک آجائیں گے۔

اس سے قبل 12 جون کو پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف اگست ستمبر میں کھیلے جانے والے تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچوں کے لئے 29 کھلاڑیوں کی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔  پریس  ریلیز  کے  مطابق  وائٹ  بال  کے  ماہرین  پر  مشتمل  ایک  اسکواڈ  کو  کرونا  وائرس  کے  تناظر  میں احتیاطی  تدابیر  کے  مطابق  انگلینڈ  روانہ  کیا  جا  رہا  ہے،  جہاں  وہ  سیریز  کے  مکمل  ہونے  تک  رہیں  گے”۔

Continue Reading
Advertisement

تازہ ترین

پاکستان5 months ago

ایماراتی ایئرلائن نے پاکستان کے ساتھ اپنا ہوائی آپریشن معطل کردیا

متحدہ عرب امارات کی  قومی  ایئرلائن نے کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے لئے اپنا فلائٹ آپریشن معطل کردیا...

پاکستان5 months ago

کرونا سے جنگ میں چین نے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا

چین نے کرونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے تمام فورمز پر اپنی مسلسل حمایت کی...

پاکستان5 months ago

سعودیہ عرب کے نئے اعلان کے بعد وزارت حج کا عازمین حج کی ادائیگیاں واپس کرنے کے لیے اجلاس طلب

وزارت مذہبی امور کا ایک ہنگامی اجلاس  طلب کیا  گیا  ہے  جس  میں سعودی عرب کے حج 2020 سے  متعلق ...

پاکستان5 months ago

وزیراعظم عمران خان نے انتہائی دباو کے باوجود ملک میں لاک ڈاون نہ لگانے کا فیصلہ کرلیا

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سخت تنقید کے باوجود ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہ لگانے کے...

پاکستان5 months ago

پی آئی اے کا کریش سے نقصان زدہ مکانوں کی تعمیر کا اعلان

کراچی  میں  ہونے  والے  پی  آئی  اے  کے  جہاز  کے  کریش  نے  پورے  ملک  کو  اشکبار  کر  دیا۔  22 مئی ...

Advertisement