fbpx
تاریخMay 29, 2020

Stoppage is Inevitable – Convid19

Imran Zahoor
Latest posts by Imran Zahoor (see all)

stay home stay safe

ٹھراو ناگزیر ہے

یقین نہیں آتا وقت کبھی ایسے تھمے گا سب ضروری اورغیر ضروری معاملات زندگی یکدم منجمند اور بے معنی ہو کر رہ جائیں گے اور قدرت انسان کی بے بسی کا یوں تمسخر اڑائے گی- یقینی طور پر ہم سب نے آنے والے دنوں ہفتوں اور مہینوں کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور پھر جب اچانک ایک ننھے سے جرثو مے(کرونا) نے ہم سب کو گھر کی چاردیواری تک محصور کر کے رکھ دیا اور پھر وہی بات حرف آخر ٹھہری جو انسانی تخلیق کی ابتدا سے تمام عالم انسانیت دہراتی آرہی تھی” یعنی انسانی جان سے سے زیادہ کوئی شے مقدم نہیں” یعنی جب انسانی جان کی بقا کا معاملہ آیا تو مندر’ چرچ’ مسجد اور دیگر عبادت گاہوں کو تالے لگ گئے مصافحہ’ میل جول’ میلاد’ مجلس اور دیگر انسانی اجتماعا ت پر بھی پابندی لگا دی گئی تاکہ انسانی جانوں کو ہر ممکن طریقے سے تحفظ فراہم کیا جاسکے

زندگی ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے یہ کبھی ھم نے سوچا ہی نہیں کام کاج’ پیسہ کمانے کی دھن ‘ مادیت پرستی اور اعلی مرتبے کے حصول کی خواہش نے زندگی کی رعنائیوں اور رونقوں کو دھندلا کردیا ہے موجودہ برق رفتار اور ٹیکنالوجی سے لیس دور میں انسان کے لئے ماہ و سال کو تھامنا اور اس کی طنابوں پر اپنی گرفت حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہم بحیثیت انسان دوڑتی دنیا کے ساتھ خود کو بھگائے جا رہے ہیں ایسی دوڑ جس کی منزل کا ہمیں خود بھی تعین نہیں بچپن سے لے کر حصول تعلیم اور پھر عملی زندگی کا آغاز ہماری شخصیت کی تکمیل کے مختلف مراحل ہیں جو ہم طے کرتے آئے ہیں یا پھر طے کر رہے ہیں ہماری شخصیت کا ہر پہلو معاشرے کا عکس ہے بہت کم افراد ہوتے ہیں جو اپنی سوچ’ راستہ اور طرز زندگی میں انفرادیت پیدا کر پاتے ہیں و گر نہ اکثریت کو سماج کے ساتھ ہی جبرا ہی چلنا پڑتا ہے آج کے ترقی یافتہ زمانے میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوں جو اپنی سرحدوں’ افکار’ نظریات’ روایات اور رہن سہن میں اپنی انفرادیت قائم کیے ہو بدلتے حالات و واقعات اور عالمی رجحانات دنیا کے ہر ملک پر کسی نہ کسی طریقے سے اثر انداز تو ہوئے ہیں صنعتی انقلاب اور کامیابی کے غالب فلسفہ نے موجودہ دور کے انسانوں کو مشینوں میں تبدیل کر دیا تھا پھر اچانک یہ کیا ہوا کہ کرونا جیسے وبائی مرض نے پوری دنیا کا ہی نظام زندگی ہی مفلوج کر کے رکھ دیا تمام انفرادی آزادیاں سلب ہو کر رہ گئی لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے زندگی میں ایک ٹھہراؤ سا آگیا اور انسانی جان اور اس کا تحفظ ہی اولین ترجیح ٹھہری

ایک غور طلب پہلو یہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے اب کی بار انسانی جان اوراس کی سلامتی اتنی مقدم کیوں ٹھہری؟ اگر ہم انسانی تاریخ کا جائزہ لیں تو گزشتہ ایک صد ی کے دوران ہم انسانوں نے بربریت اور مظالم کی وہ ہولناک داستانیں رقم کی ہیں جسے سن کر انسانیت بھی کانپ اٹھتی ہے- جنگ عظیم اول اور دوئم اور اس سے منسلک جنگی جرائم ‘خانہ جنگی’ ماحولیاتی آلودگی کی تباہ کاریوں نے نہ صرف کروڑوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا بلکہ آن گنت انسانو ں کو اپاہج اور بے گھر بھی کیا- طاقتوروں کی اس دنیا میں کمزوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی فہرست اتنی طو یل ہے کہ جس کا شمار ممکن نہیں مگر آج جب کرونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ہر کسی کو اپنی جان کی سلامتی کے لالے کیوں پڑ گئے؟ کیا اب کی بار یہ وائرس صرف کمزور پر حملہ آور ہوا اور طاقتور اس سے محفوظ رہا ؟ہرگز نہیں اس وائرس نے بلا کسی رنگ’ نسل’ عمر’ پنڈ ت و پجاری’ ترقی یافتہ و ترقی پذیر اور بھوکھا و سیر شکم میں فرق کیے بغیر سب کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے آج دنیا کےہر کہ خطے میں کرونا سے موت کا خوف طاری ہے ورنہ آج بھی تو دنیا میں بھوک و افلاس’ صاف پانی کی عدم دستیابی اور ماحو لیاتی آلودگی کی وجہ سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں اور یہ ہلاکتیں کرونا سے ہو نے والی ہلا کتو ں سے کئی گنا زیادہ ہے صرف چائنہ میں سالانہ 16 لاکھ افراد ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور آج بھی دنیا میں روزانہ 4 ہزار سے زائد بچے بھوک اور پینے کے پانی کی عد م دستیابی سے مر جاتے ہیں

سما جی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے انسان نے جس تیزی سے ترقی کی منازل کو طے کیا ہے اور سائنس ‘صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان جو انقلاب برپا کیا ان سے رو نما ہونے والی تبدیلو ں کے ساتھ مطابقت قائم کرنے کے لئے انسان نے ذہنی اور نفسیاتی طور پر خود کو تیار ہے نہیں کیا تھا یوں کہہ لیجئے آج کے دور کے انسان کی مثال کچھ ایسی ہی ہے جیسے کسی گیارہویں صد ی کے بندے کو اکیسو یں میں جبرا دھکیل دیا گیا ہو اور ترقی کی نہ رکنے والی جس دوڑ میں ہم پڑ گئے اور صرف انسانی مفاد ات کے حصول کی خاطر ہم خود کو اور اس دنیا کو تبا ہی کے دھا نے تک لے آے – ترقی کی اس دوڑ میں ہم نے قدرتی وسائل مثلا پانی’ ہوا’ معد نیا ت’ جنگلات اور جنگلی حیات کا جس بے رحمی اور بے دردی سے استعمال کیا اس کے نتیجے میں زمین کا ماحولیاتی توازن بری طر ح سے بگڑ گیا تو کیا یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ کرونا وائرس ماحول دشمن انسانی سرگرمیوں کو نکیل ڈال کر ماحو لیا تی توازن کو بہتر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے آپ ذرا تحقیق کر کے دیکھ لیں آپ کو معلوم ہو گا کہ عالمی لاک ڈاون کے نتیجے میں دنیا کے ماحول پر بہت سے مثبت اثرات مر تب ہو رہے ہیں صرف چائنہ میں کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے آلودگی میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی جس سے 77000سے زیادہ افراد آلودگی سے ہلاک ہونے سے محفوظ رہے اس وقت عالمی لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا کی ماحولیاتی آلودگی میں 17 فیصد کمی بھی ہوئی ہے

مادیت پرستی کے جدید دور کا غلام بن کر انسان نے انسانیت کو نہ صرف اس کی توقیر سے محروم کیا بلکہ معاشی و مادی ترقی کے مقاصد کے حصول کے لئے انسان نے انسان کو ہی ایندھن کے طور پر استعمال کیا اور آج کرونا وائرس نے انسان کو انسان سے تحفظ فراہم کرنے اور انسان کو بذات خود مفلوج ہونے سے قبل تازہ دم کرنے کے لئے اسے محصور کرکے اس امر کو سرانجام دیا وہی اہل علم و دانش جو مغرب سے متاثر ہوکر “ٹھہراؤ کی زندگی” سے گریز کا درس دیتے رہے تو پھر آج یہ بات تو ثابت ہوئی کہ ایک تھکا دینے اور بھگا دینے والی زندگی میں “ٹھہراؤ تو ناگزیر ہے” کچھ دیر کے لئے بریک بھی تو ضروری ہے” اور ہمیں نظام قدرت اور اس سے وابستہ معاملات زندگی کو کئی دوسرے زاویوں سے بھی تو دیکھنے کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھیں کہ یہ سب خام خیالی باتیں ہیں بھلا کون ایسا کرتا ہے؟ کون دنیا کی رفتار کے آگے بند باندھ سکتا ہے؟ مگر یقین جانیے نظام قدرت اور ہماری زندگی ٹھہراؤ مانگتی ہے آلودہ فضا بھی کچھ وقت کے لئے  ہونا چاہتی ہے تمام جاندار بھی کچھ وقت کے لئے انسانی گرفت سے آزاد رہنا چاہتے ہیں اور زندگی بھی ہمیں اپنے پیاروں کو وقت دینے کا تقاضا کرتی ہے یہ ہمیں بھی خود کو کسی بند کمرے میں چائے یا کافی  کے کپ کے ساتھ خود سے ہمکلام ہونے کی خواہش بھی تو کرتی ہے تو کیا یہ آج سب کچھ  میں نہیں ہو رہا؟ کیا آج نظام قدرت اور ہماری زندگی میں ٹھہراؤ نہیں آیا ؟کیا آج ہم اپنے پیاروں کو وقت نہیں دے رہے ؟میرے خیال سے ہم یہ سب کر رہے ہیں گزرتے وقت کی اہمیت کا یہی راز ہے کہ دن رات کی گردش کی غلامی سے کچھ دیر کے لئے نجات حاصل کی فکر معاش ‘ منافع کا طمع اور دولت کے انبار لگانے کی تگ و دو سے کچھ عرصے کے لیے وقفہ لیا جائے وقت کو تھامنے اور زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہ جبری بریک لگائی جائے یعنی وہ بریک جس پر ہم نے اپنی برق رفتار زندگی کے باعث کبھی اتنے زور سے پاؤں رکھا ہی نہیں

میری یہ ذاتی رائے ہے آپ کرو نا کے باعث پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے انسان کو ایک نئے عمرانی معاہدے  کی ضرورت ہے وہی عمرانی معاہدہ جو جان لاک اور تھامس ہابز نے پیش کیا جس کی رو سے نے انسانی زندگی کے آغاز میں فرد نے اپنی زندگی کی بقا اور اپنے سماجی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست اور اس کے مقتدر اعلی کے ساتھ کیا تھا تو آج کرونا جیسی وبائی مرض کے پیش نظر دنیا کے جو حالات میں تغیر آیا ہے اس کی بنیاد پر ہمیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ہی ضرورت ہے مگر اب کی بار یہ عمرانی معاہدہ سیاست اور فرد کے مابین نہیں بلکہ فرد اور فر د کے درمیان اور فرد اور قدرت  کے درمیان ہونا چاہیے جس میں فرد’ فرد کے نہ صرف معاشی اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہو بلکہ دنیا پہ حکومت کرنے والا ایک طاقتور ترین طبقہ کمزور طبقات کو کم ازکم اس حد تک اپنے پیروں پر کھڑا کر دے کہ وہ ہر طرح کی آفات اور وبائی امراض کے خلاف اپنے وسائل کے بل بوتے پر مقابلہ کر سکیں- مزید یہ کہ قدرت کے توازن اور اور ماحول کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے موجودہ دور کا مادیت پرست انسان اس امر کا اعادہ کرے کہ وہ زمین کے قدرتی وسائل ہوا پانی مٹی جنگلات اور جنگلی حیات کو صرف اپنی ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرے گا تاکہ یہ قدرتی وسائل ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے بھی دستیاب ہو

کرونا جیسے وبائی مرض نے آج ایک بات تو ثابت کی ہے کہ اگر آج دنیا کو کسی اجتماعی چیلنج کا سامنا ہو گا تو اس چیلنج کا مقابلہ عالمی و اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہوگا چند ترقی یافتہ ممالک آج کی ترقی کو اپنے کھاتے میں ڈال کر خود کو براہمن اور باقی ماندہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شودروں جیسا برتاؤ نہیں کرسکتے صرف معاشی و سیاسی غلبے اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر دنیا پر پوری دنیا پر حکمرانی نہیں کی جاسکتی کیونکہ جب ایک ان دیکھا جرثومہ(کر ونا)انسانوں پر وارد ہوتا ہےتو اسلحہ کے انبار’ دولت کے ذخائر اور مادی ترقی کا گھمنڈ اس کے سامنے بے بس اور کمزور دکھائی دیتے ہیں آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ آ فات’ وبائی امراض کا سبب بھلے مادی’ آفاقی’ روحانی یا سائنسی ہو ہمیں ان کا ۔۔۔۔تدارک تدبیر سے ہی کرنا چاہیے کیونکہ وائرس کا کوئی رنگ نسل زبان مذہب یا فرقہ نہیں ہوتا۔

Stay Home, Stay Safe

Leave a Reply