fbpx
تاریخMay 29, 2020

سفید پوشی

Shahbaz Chohan
Latest posts by Shahbaz Chohan (see all)

beggers pakistan

سفید پوشی

چند روز قبل اپنے ایک دوست کی فیکٹری کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ ایک عمررسیدہ شخص دفتر کے دروازے پر کھڑا ہوکر میرے دوست کو سیلوٹ کرنے لگا۔ دوست نے بڑے احترم سے بزرگ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے پاس بٹھا لیااور اخلاق و پیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بولا، ”بابا جی! آپ سے کل آنے کا بولا تھا، کیوں نہیں آئے؟“ وہ بزرگ چہرے پر مسکراہٹ لئے دھیمے لہجے میں بولے، ”سر جی! کل جب میں آپ کی طرف آنے لگا تو مجھے کسی شخص نے بتایا کہ قریبی علاقے میں ایک شخص راشن تقسیم کررہا ہے۔ میں سیدھا وہاں چلاگیا اور شام تک وہاں انتظارکرتا رہا مگر کوئی راشن تقسیم نہ ہوا۔ شام کو گھر واپس آیا تو بچے ناراض ہوئے کہ آپ کو منع بھی کیا تھا کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا۔ کرونا کی وبا بہت مہلک ہے اور آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔ سر جی! میں نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ میں کس کام گیا تھا کیونکہ میرا بڑا بیٹا بہت خوددار ہے اور اسے برالگتا ہے کہ میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں۔ مگر دوہفتوں سے میرے دونوں بیٹے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہیں، آپ جانتے بھی ہیں کہ دونوں شادی شدہ ہیں،لیکن گھر میں کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں تھا۔ بچوں کو یہی بتایا تھا کہ آپ نے (یعنی مالک نے) بلایا ہے اور کچھ کام کرنے کا بولا ہے۔“ میرے دوست نے سخن آمیز نظروں سے میری جانب دیکھا۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، وہ اچانک بولا،”باباجی! آپ راشن لینے کیوں گئے؟ آپ مجھے بول دیتے۔“ مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بزرگ بولے، ”صاحب جی! اب ہر کام آپ سے تو نہیں نہ کہنا۔ آپ نے کچھ دن پہلے دوائیوں کے لئے بھی میری مدد کی تھی تو مجھے مناسب نہیں لگا کہ بار بار آپ کو پریشان کروں۔“ میں فاقوں کی نوبت کے باوجود بزرگ کے اس جملے سے بہت متاثر ہوا۔ دل ہی دل میں بابا جی کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔ اسی دوران فیکٹری کا اکاؤنٹنٹ ایک لفافہ اور رجسٹر اُٹھائے دفتر میں داخل ہوا۔ میری اکاؤنٹنٹ سے پہلے کی شناسائی تھی۔ اس نے اپنے باس (یعنی میرے دوست)کے پاس جانے سے پہلے مجھ سے دعاسلام کی اور باس کو وہ رجسٹر کھول کر کچھ دکھانے لگا۔ دوست نے کہا کہ آپ جائیں، باقی میں خود دیکھ لیتا ہوں۔ اس کے بعد اس بزرگ سے مخاطب ہوئے کہا، ”لیجئے عظیم صاحب،آپ کی تنخواہ آگئی!“ بابا جی کی جیسے عید ہوگئی ہو۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما ئے اور دعائیں دیتے جارہے تھے کہ آپ نے اس مرتبہ وقت سے پہلے ہی تنخواہ دے کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ پھر باباجی نے آگے بڑھ کر رجسٹر میں ایک جگہ دستخط کئے، لفافہ وصول کیااور جیب میں ڈال لیا۔ میرے دوست کے مسلسل اصرار کے بعد انہوں نے وہ لفافہ دوبارہ نکالا اور رقم گن کر بولے، ”پوری تنخواہ ہے سر جی! پانچ ہزار روپے ہیں۔“ یہ سن کر تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں حیران و پریشان اس سوچ میں پڑگیا کہ یہ اتنی تنخواہ میں کیسے گزارا کرے گا مگر اس بزرگ کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ صبر اور قناعت پسندی کی ایک زندہ مثال تھے۔ گرد سے اٹی جھریوں والا چہرہ بجھی بجھی روشنی لئے مشکور نگاہوں سے دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا جبکہ میں ششدر اور ساکت اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔ سکوت توڑتے ہوئے میرا دوست بولا،”بابا جی! اب آپ نے کسی اور کی طرف راشن کے لئے نہیں جانا۔ میں کچھ انتظام کردوں گا۔“ بزرگ بولے،”کیا یہاں فیکٹری سے ملے گا؟“ دوست نے جواب دیا،”ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں بلاؤں یا آپ کے گھر پہنچا دوں گا۔“ یہ بات سن کر بزرگ فوری بول اُٹھے،”نہیں نہیں! آپ میرے گلی کے باہر بازار میں ایک بینک ہے، آپ وہاں آجائیے گا۔ مجھے فون کرلینا، میں دومنٹ میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔کوشش کیجئے گا کہ عشاء کی نماز کے بعد ہی تشریف لائیں۔ دراصل میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے مجھے بھکاری سمجھیں کیونکہ وہ ابھی عقل کے کچے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ معمولی تنخواہ اوران کی دیہاڑی لگانے سے ہی گھر کاسارانظام چل رہا ہے۔“ یہ کہہ کر بابا جی دوبارہ کھڑے ہوئے، میرے دوست کو سیلوٹ کیا اور چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد میں ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ حالات کے جبر اور وقت کی دودھاری تلوار کا عملی مظہر میں دیکھ چکا تھا۔ میں اس سوچ میں کافی دیر تک بیٹھا رہا کہ نہ جانے کتنے خوددار اور سفید پوش لوگ اس طرح کے حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ ’نیکی کر اور فیس بک پر ڈال‘ کی مہم آج کل زوروں پر ہے۔ ہر رفاہی ادارہ اور سماجی تنظیم ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے اپنی ”جے جے کار“ کرانے میں مگن ہے۔ میں نے تو یہاں تک تصاویر میں دیکھا ہے کہ آٹے کے دس کلو کے تھیلے کی تقسیم کے وقت کم از کم ایک درجن ”مخیر حضرات“ اس ”بھکاری‘‘ کی عزت نفس کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب مسلمان جو بات بات پر عدل فاروقی اور نظام فاروقی کی مثالیں پیش کرتے ہیں، یہ سیدنا عمر فاروق  ؓ کا وہ واقعہ کیوں فراموش کردیتے ہیں جب امیرالمؤمنین ہوتے ہوئے بھی رات کے اندھیرے میں اپنے کاندھے پر کھانے کا سامان اس مکان میں خاموشی سے چھوڑ آتے تھے مگر آج کل اگر تصویر نہ بنے تو سخاوت کا کیا فائدہ۔ ہم سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور پھر ہمسائیوں میں نظر کیوں نہیں دوڑاتے؟ یقین جانئے ہمیں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو صرف سفید پوشی اور خودداری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی لوگ ہماری توجہ کے مستحق ہیں اور انہی کو دے کر سکون قلب حاصل ہوسکتا ہے۔

خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا

راشن تو بٹ رہا تھا، وہ فوٹو سے ڈر گیا

Share

Leave a Reply